By Nizamuddin Ahmad Siddiqui
(This is our eleventh and the last vernacular post under the 2021 edition of the JILS Vernacular Publication Initiative, that marks the celebration of the International Mother Language Day. Through this initiative, we at JILS, are attempting to take a small step towards making legal education and information more inclusive and accessible, and countering the stronghold of English in legal academia with publication in vernacular languages.)
اس ایک آرزو سے لکھتا ہوں
کہ بن پڑے تو کوئی بات کہوں
صدیقی
خیالات کی اقسام : ایک مختصر جائزہ
انسان اپنے خیالات کا پیرو کار ہوتا ہے، وہ وہی کچھ کرتا ہے جو اسکی سوچ سے میل کھاتا ہے۔ چاہے وہ سوچ سہی ہو یا غلط۔ اسکے احساسات اور اسکے جزبات اسکی شخصیت کو اجا گر تو کرتے ہی ہیں ساتھ ہی ساتھ اسکے خیالات کی نشاندہی بھی کرتے ہیں۔ ہالانکی استقامت خیال کی یہاں کوئی شرط موجود نہیں۔
یہ آرزو بھی بڑی چیز ہے مگر ہمدم
وسال یارفقت آرزو کی بات نہیں
فیض احمد فیضؔ
غالب ایک دفہ کلکتہ گئے اور کچھ وقت وہیں کے مقیم رہے، اس خیال سے کی کلکتہ سے بہتر کوئی جگہ نہیں۔ لیکن کچھ عرصہ باد خیال بدلا اور پھر سے دہلی کارخ کیا، یہ کہتے ہوئے کہ میاں خیال تھا بدل گیا۔ غالب کے خیال کا بدلنا اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ خیالات کا بھولنا اور بدلنا بذات خود کوئی مایوب بات نہیں۔ جب غالب جیسی شخصیت کو زندگی کے ہر شعبہ میں خیالاتی پائیداری میصر نہیں تو ہم آپ کیا چیز ہیں۔
اسی کے برعکس ہمیں انسانی فطرت سے کچھ ایسے اناثر کا ثبوت بھی ملتا ہے کہ جن کے ذریعہ انسان خود کو اپنے خیالات میں بھول جانا چاہتا ہے۔ اسکے لئے یہ فعل ایک ہنر سے کم نہیں ہوتا۔
مجھ سے ملنے کو آپ آئے ہیں؟
بیٹھیے میں بلا کر لاتا ہوں
جون ایلیا
اب یہ اپنے آپ میں کافی عجیب کیفیت ہے۔ یا تو انسان غالب کی طرح خیالات بدلتے ہوئے نئے تاثرات اختیار کرے اور یا پھر جون ایلیا کی مانند خود کو ان خیالات سے اس طرح جوڑلے کہ بس، میں ایک خیال ہوں اور کچھ نہیں۔
وہ میرا خیال تھی، سو وہ تھی
میں اسکا خیال تھا، سو میں تھا
اب دونوں خیال مر چکے ہیں
جون ایلیا
حالا نکہ ہمارے یہاں خیالات کی ایک تیسری قسم بھی موجود ہے، جہاں انسانی ذہن استقامت اختیار کیے بنا نہیں رہ سکتا۔ یہ وہ خیالاتی شعبہ ہے جو انسانی جزبات کی تشکیل کرتا ہے۔
بازیچۂ اطفال ہے دنیا میرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا میرے آگے
غالبؔ
تو جنات انسانی خیالات کی تین قسمیں سمجھ میں آتی ہیں۔ پہلی وہ جو انسان کی شخصیت کو لچیلہ بناتی ہے، دوسری وہ جو انسان کے ذات کی تشکیل کرتی ہے اور جسے بدلنے سے انسان خود کو کھو بیٹھتا ہے، اور تیسری وہ جو ان دونوں کے درمیان رہ کر انسانی نظریہ کی منصوبہ بندی کرتی ہے۔ یہ تیسری قسم وہ ہے جس میں دونوں اقسام کے جراثیم موجود ہوتے ہیں۔
کہا میں نے گل کا ہے کتنا ثبات
کلی نے یہ سن کر تبسم کیا
میر تقی میرؔ
وکیل: ایک تعارف
آیئے اب ایک وکیل کی خیالاتی فکر کا جائزہ لیا جائے۔
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
علامہ اقبالؔ
وکالت ایک ایسا فعل ہے جس میں خیالات اور نظریات کی تمام اقسام کا ایک بہترین مجموعہ موجود ہے۔جہاں ایک طرف قانونی داؤں پینچ وکیل کے کردار کو لچیلہ بناتے ہیں وہیں اسکو اس بات کی آزادی بھی فراہم کرتے ہیں کہ وہ اپنے نظریاتی اصولوں کی تا میل میں سبک دوش رہے۔ یہ اپنے آپ میں ایک بڑا ہنر ہے جو اللہ رب العزت نے ایک وکیل کو عطا کیا ہے: جرح کی قابلیت، یایوں کہئے کہ اپنی زبان سے جنگ جیت لینے کا ہنر۔
دامن پر کوئی چھینٹ نہ خنجر پر کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
کلیم عاجزؔ
جس طرح وکیل خیالاتی لچیلہ پن کا ماہر ہوتا ہے اسی طرح اسکے اندر خیالاتی پائیداری بھی ہوتی ہے۔ وہ اپنے کام کو کچھ ایسے اصولوں کے تابع رکھتا ہے جنکے فروغ سے نہ صرف اسکی شخصیت سجتی اور سنورتی ہے، بلکہ سماج کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔ ان اصولوں میں سب سے اہم اصول ہے ملک کے آئین کے تئیں وفاداری۔ ایک وکیل اس بات کو بخوبی سمجھتا ہے کہ ایک اچھے سماج کی تشکیل Rule of Law یعنی آئین کے تابع رہ کر ہی کی جاسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وکیل اپنی بات آئین سے باہر کبھی نہیں کرتا ، گویا کی ملک کا آئین اسکی سوچ کا احطہ کئے ہوئے ہو۔ اسکے خیالات ، جزبات ، احساسات اور تاثرات ہر لمحہ ملک کے آئین کی وفا داری میں ملوس رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک وکیل کی زندگی قانونی داؤں پینچ اور آئین کے تئیں وفاداری کے درمیان گزرتی ہے۔
سخت دشوار ہے پابندیئے آداب جنوں
جسکو بننا ہے بہت سوچ کر دیوانا بنے
اس لئےیہ کہنا بلکل بھی غلط نہ ہوگا کہ ملک کے آئین کا اصل وارث ایک وکیل ہی ہو سکتا ہے، کوئی اورنہیں۔
وکیل : ایک سماجی اساسہ
پیدا ہوا وکیل تو شیطان نے کہا
لو آج ہم بھی صاحب اولاد ہو گئے
اکبر الہ آبادی
کیا یہ کہنا سہی ہوگا کہ ایک وکیل اور دوسرے لوگوں کی نسبت شیطانی جراثیم کی زیادتی پائی جاتی ہے؟ یا پھر شاعر کے تاثرات کو یہ کہہ کر ٹالا جاسکتا ہے کہ یہ مزاقیہ شاعری ہے اور کچھ نہیں ۔ ایک تیسرا نقطہ بھی نظر آتا ہے۔ اگر ہم ان دونوں تاثرات کو یکجاں ترجیح دیتے ہوئے ایک مختصر جائزہ لیں تو شاید وکالت کا سماجی کردار کچھ ابھر کر سامنے آئے۔
اب Kesavananda Bharati Case کو ہی لیجئے۔ آپ Structure Doctrine کو کیا کہنگے؟ ایک وکیل کے ذہن کا فطور کہ جس نے Supreme Court کو اپنے بس میں کر لیا، یا پھر اس کی اس ملک کے آئین کے تئیں وفاداری جسکی وجہ سے انسانی حقوق کی نئی شکل وجود میں آئی۔ آپ جو سمجھیں، لیکن یہ ایک وکیل کا ہی کام ہے جو اپنے خیالات کے لچیلہ پن کی بنا پر پائیداری کے حصول کی گنجائش پیدا کر سکتا ہے۔ کسی اور کونہ ہی یہ ہنر میصر ہے اور نہ ہی ایسی جرت۔ یاد رہے کہ Court ہمیشہ اپنا فیصلہ وکیلوں کی مباحثہ کی بنا پر ہی کرتا ہے۔ اسلئے اچھا فیصلہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ بحث بھی اچھی ہی رہی ہوگی۔ اور تو اور ایک اچھا فیصلہ اس بات کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ ایک اچھی بحث خیالاتی لچیلے پن اور پائیداری پر یکساں مبنی ہوتی ہے ۔
اس لئےیہ کہنا بلکل بھی غلط نہ ہوگا کی وکیل سماج کا ایک بے حدضروری اور اہم ترین اساسہ ہے، جسکا فعل اور قول دونوں ہی ملک کے آئین کو سماجی استقامت عطا کرتے ہیں۔
About the author –
The author, Nizamuddin Ahmad Siddiqui, is currently a Senior Research Fellow at the Centre for Post Graduate Legal Studies (CPGLS), Jindal Global Law School. He was an Assistant Professor of law at the West Bengal National University of Juridical Sciences (NUJS), Kolkata from 2014 to 2017 and taught Public International Law, Law of International Organizations, Law of State Responsibility and International Economic Law.
